رَّبِّ اَعُوۡذُ بِکَ مِنۡ ھَمَزٰتِ الشَّیٰطِیۡنِ ۙ واَعُوۡذُ بِکَ رَبِّ اَنۡ یَّحۡضُرُوۡن ؕ۔
بِسۡمِ اللّٰهِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِۙ۔
خُدا کی رحمت سے مایوسی حرام۔
خُدا جو تمام کہکشاؤں کا ربّ ہے۔ وہ رحمٰن اور رحیم ہے۔ جو کوئی خُدا کی آیات پر ایمان لاتا ہے، خُدا اُس پر سلامتی بھیجتا ہے۔ اور ایسے لوگوں پر دُنیا و آخِرت میں رحمت کرنا اپنے اوپر فرض کر لیتا ہے۔ پس ایمان والوں پر خُدا کی رحمت سے مایوسی حرام ہے۔ کیونکہ خُدا کی رحمت سے وہ لوگ مایوس ہوتے ہیں جو کافِر ہیں۔
وَاِذَا جَآءَكَ الَّذِيۡنَ يُؤۡمِنُوۡنَ بِاٰيٰتِنَا فَقُلۡ سَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ كَتَبَ رَبُّكُمۡ عَلٰى نَفۡسِهِ الرَّحۡمَةَ ۙ ﴿۵۴﴾
Q-06:54اور جب وہ لوگ جو ہماری آیات پر ایمان رکھتے ہیں آپ کے پاس آئیں تو کہو: تم پر سلامتی ہو۔ تیرے رب نے رحمت کو اپنے اوپر فرض کر لیا ہے۔
وَلَا تَايۡــَٔسُوۡا مِنۡ رَّوۡحِ اللّٰهِؕ اِنَّهٗ لَا يَايۡــَٔسُ مِنۡ رَّوۡحِ اللّٰهِ اِلَّا الۡقَوۡمُ الۡكٰفِرُوۡنَ ﴿۸۷﴾
Q-12:87اور اللہ کی رحمت و مدد سے ہرگز ناامید نہ ہو۔ یقیناً اللہ کی رحمت سے وہی لوگ ناامید ہوتے ہیں جو کافر ہیں۔
قَالُوۡا بَشَّرۡنٰكَ بِالۡحَـقِّ فَلَا تَكُنۡ مِّنَ الۡقٰنِطِيۡنَ ﴿۵۵﴾ قَالَ وَمَنۡ يَّقۡنَطُ مِنۡ رَّحۡمَةِ رَبِّهٖۤ اِلَّا الضَّآلُّوۡنَ ﴿۵۶﴾
Q-15:55-56فرشتوں نے کہا: ہم نے آپ کو سچی خوشخبری سنائی ہے، پس آپ مایوس ہونے والوں میں سے نہ ہوں (۵۵)۔ ابراہیمؑ نے کہا: اپنے رب کی رحمت سے گمراہوں کے سِوا کون مایوس ہو سکتا ہے (۵۶)
خدا کی رحمت سے مایوسی کی وجہ۔
خدا کی رحمت سے مایوس ہونا کفر کی علامت ہے۔ مُسلِموں میں بھی سچّے مومنوں کے مقابلہ میں کمزور ایمان والوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔ اس بات کو اللّٰہ تعالیٰ یوں فرماتا ہے۔ "اور تم اکثر اللہ پر ایمان نہیں رکھتے مگر اس طرح! کہ مشرک ہوتے ہیں۔
ایمان کی اس کمزوری کی صرف ایک ہی وجہ ہے: ہم میں قرآن پر حقیقی یقین کا فقدان ہے۔ خاص طور پر غیر عرب ممالک میں مسلمان قرآن کی تلاوت تو کرتے ہیں لیکن اللہ کے احکامات کو سمجھنے کی کوئی خواہش نہیں رکھتے—اور نہ ہی ان خطوں کے علماء انہیں سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ نتیجتاً، غیر عرب علاقوں کے لوگوں کا ایمان اکثر 'شرک' (اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانے) سے آلودہ ہو جاتا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ خود مسلمانوں کو اس بات کا علم ہی نہیں ہوتا کہ وہ شرک کے مرتکب ہو رہے ہیں۔
وَمَاۤ اَكۡثَرُ النَّاسِ وَلَوۡ حَرَصۡتَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴿۱۰۳﴾
Q-12:103اور اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے، خواہ آپ کتنی ہی شدت سے اس کی خواہش کیوں نہ کریں۔
وَكَاَيِّنۡ مِّنۡ اٰيَةٍ فِى السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ يَمُرُّوۡنَ عَلَيۡهَا وَهُمۡ عَنۡهَا مُعۡرِضُوۡنَ ﴿۱۰۵﴾ وَمَا يُؤۡمِنُ اَكۡثَرُهُمۡ بِاللّٰهِ اِلَّا وَهُمۡ مُّشۡرِكُوۡنَ ﴿۱۰۶﴾
Q-12:105-106اور آسمانوں اور زمین میں کتنی ہی ایسی نشانیاں ہیں جن پر وہ گزرتے ہیں، مگر وہ ان سے منہ پھیر لیتے ہیں۔ (105) اور ان میں سے اکثر اللہ پر ایمان نہیں رکھتے مگر اس طرح! کہ وہ مشرک ہوتے ہیں۔
فَلَاۤ اُقۡسِمُ بِمَا تُبۡصِرُوۡنَۙ ﴿۳۸﴾ وَمَا لَا تُبۡصِرُوۡنَۙ ﴿۳۹﴾ اِنَّهٗ لَقَوۡلُ رَسُوۡلٍ كَرِيۡمٍۚ ۙ ﴿۴۰﴾ وَّمَا هُوَ بِقَوۡلِ شَاعِرٍؕ قَلِيۡلًا مَّا تُؤۡمِنُوۡنَۙ ﴿۴۱﴾ وَلَا بِقَوۡلِ كَاهِنٍؕ قَلِيۡلًا مَّا تَذَكَّرُوۡنَؕ ﴿۴۲﴾
Q-69:38-42تو میں قسم کھاتا ہوں اس چیز کی جسے تم دیکھتے ہو، (38) اور اس چیز کی جسے تم نہیں دیکھتے، (39) کہ یہ یقیناً یہ (قران) ایک معزز فرشتے (جبرائیلؑ) کا کلام ہے؛ (40) اور یہ کسی شاعر کا کلام نہیں (مگر پھر بھی) تم بہت کم ایمان لاتے ہو؛ (41) اور نہ ہی کسی کاہن کا کلام ہے (مگر پھر بھی) تم بہت کم نصیحت حاصل کرتے ہو (42)
توبہ کرنے والے کافر کے لیے الٰہی رحمت۔
وہ لوگ جو کُفر کا راستہ چھوڑکر خُدا اور اُس کی آیات پر ایمان لاتے ہیں۔ وہ مایوس نہ ہوں۔ خُدا اُن پر زمین و آسمان کی برکتیں کھولنے اور اُن کے گُناہ مُعاف کرنے کا وعدہ کرتا ہے۔
قُلْ لِّـلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِنۡ يَّنۡتَهُوۡا يُغۡفَرۡ لَهُمۡ مَّا قَدۡ سَلَفَۚ ﴿۳۸﴾
Q-08:38ان لوگوں سے کہہ دیجیے جنہوں نے کفر کیا: اگر وہ باز آ جائیں تو جو کچھ گزر چکا ہے، اسے معاف کر دیا جائے گا۔
وَلَوۡ اَنَّ اَهۡلَ الۡقُرٰٓى اٰمَنُوۡا وَاتَّقَوۡا لَـفَتَحۡنَا عَلَيۡهِمۡ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ ﴿۹۶﴾
Q-07:96اور اگر (ان) بستیوں کے لوگ ایمان لے آتے، اور تقویٰ اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکتیں کھول دیتے.
گنہگار بھی خدا کی رحمت سے مایوس نہ ہوں۔
جو لوگ جہالت یا لاعلمی کی بنا پر گناہ کر بیٹھتے ہیں اور پھر اللہ سے معافی مانگتے ہیں، وہ اسے انتہائی بخشنے والا اور رحم کرنے والا پائیں گے۔ اللہ کا فرمان ہے کہ وہ اپنے بندوں کے شرک (اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانے) اور کفر (انکارِ حق) کے گناہوں کو معاف نہیں کرے گا؛ البتہ اس کے علاوہ کسی بھی گناہ کو، جسے وہ چاہے، معاف فرما سکتا ہے۔ لہٰذا، سب کچھ پختہ ایمان کے ساتھ معافی طلب کرنے اور اس گناہ کو دوبارہ نہ دہرانے کے عزم پر قائم رہنے پر منحصر ہے۔
قُلۡ يٰعِبَادِىَ الَّذِيۡنَ اَسۡرَفُوۡا عَلٰٓى اَنۡفُسِهِمۡ لَا تَقۡنَطُوۡا مِنۡ رَّحۡمَةِ اللّٰهِ ؕ اِنَّ اللّٰهَ يَغۡفِرُ الذُّنُوۡبَ جَمِيۡعًا ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴿۵۳﴾
Q-39:53کہہ دو: اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے! ﷲ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، بے شک ﷲ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے، یقیناً وہی بخشنے والا، مہربان ہے۔
وَمَنۡ يَّعۡمَلۡ سُوۡٓءًا اَوۡ يَظۡلِمۡ نَفۡسَهٗ ثُمَّ يَسۡتَغۡفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا ﴿۱۱۰﴾
Q-04:110جو شخص کوئی بدی کا عمل کرے یا اپنے نفس پر زیادتی کرے، پھر ﷲ تعالیٰ سے استغفار کرے، تو وہ ﷲ کو غفور وَرحیم پائے گا۔
**********